ریسرچ جرنل مافیا، تیز رفتار تحقیق اور مقالے مسترد ہونے کا راز

ریسرچ پیپرز: پاکستان اور دیگر ملکوں کے مصنفین کے مقالے مسترد ہونے کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟ جانئے اس رپورٹ میں

ریسرچ جرنل کیا کھیل کھیلتے ہیں، پاکستان اور دیگر ملکوں کے مصنفین کے مقالے مسترد ہونے کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟ یہ ایک حیران کن کہانی ہے

جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں سیاست کی دنیا میں تو تغیر آ ہی رہا تھا مگر تعلیمی دنیا میں بھی ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ قیامِ پاکستان کے زمانے سے اعلیٰ تعلیم کے معاملات کے ذمہ دار ادارے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ محض نام کا فرق نہیں تھا کیونکہ نام کی تبدیلی کے ساتھ اس ادارے کے مقاصد اور ذمہ داریوں میں بھی تبدیلی رونما ہوئی تھی۔

یہ ادارہ جب یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کہلاتا تھا، اس کی ذمہ داری یہ تھی کہ تعلیم کا معیار برقرار رکھا جائے اور پورے ملک میں یکساں تعلیمی پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں تبدیل ہونے کے بعد اس کے نصب العین میں تبدیلی آ گئی ہے۔ اس زمانے میں ایچ ای سی کے مقاصد کے بارے میں دی گئی ایک بریفنگ میں یہ نصب العین درج ذیل الفاظ میں بیان کیا گیا:

’پاکستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے انجن کی حیثیت سے تعلیم کے اعلیٰ اداروں سے تعاون۔‘

حکومت پاکستان کی پالیسی میں رونما ہونے والی یہ تبدیلی اس اعتبار سے اہمیت رکھتی تھی کہ اس کے بعد ملک میں تیزی سے نئی یونیورسٹیاں قائم ہوئیں۔ اس کے علاوہ جامعات کے اساتذہ کی دلچسپی تحقیق میں بڑھ گئی۔ اس عرصے کے دوران میں تحقیقی سرگرمیوں کی رفتار میں کتنی تیزی آئی، اس کا اندازہ تحقیقی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والی ایک ویب سائٹ دی وائر کے ایک جائزے سے ہوتا ہے جس کے مطابق دسمبر 2019 میں یہ اضافہ 21 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

اسی جائزے کے مطابق سنہ 2005 سے 20015 کے عشرے میں یہ اضافہ چار گنا تھا۔ ایک اور ویب سائٹ نے مقالوں کی تعداد شائع کر کے یہ فرق واضح کیا ہے۔ ان کے اعداد و شمار کے مطابق 2004 میں 1722 مقالے لکھے گئے جبکہ 2018 میں یہ تعداد بڑھ کر 12 ہزار 905 ہو چکی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:

وہ دو وجوہات جنھوں نے او آئی سی اسلام آباد اجلاس کو ناکام بنایا

او آئی سی کا وزرائے خارجہ اجلاس افغانستان میں استحکام کے لیے کیا کرے؟

جامعات کے بی پی ایس اساتذہ کا استحصال

تعلیم و تحقیق کے فروغ میں ذاتی دلچسپی اور شوق کی اہمیت ہمیشہ اہم ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کی طرف سے ترغیب اور حوصلہ افزائی بھی شروع ہو جائے تو اس کے اثرات مزید بہتر ہو جاتے ہیں۔

اس دور میں یہی ہوا۔ تحقیق میں دلچسپی بڑھانے اور تحقیقی عمل میں مصروف اساتذہ اور محققین کی دلچسپی میں مزید اضافے کے لیے جامعات کو بھاری رقوم فراہم کی گئیں۔ اس پالیسی کے اثرات تعلیمی شعبے میں عملاً دکھائی دینے لگے۔

جامعات کی سطح پر ہونے والی تحقیق کے تکنیکی پہلوؤں میں گہری دلچسپی رکھنے والے ممتاز محقق پروفیسر ڈاکٹر عابد مسعود نے مجھے بتایا کہ ’یہ پالیسی کئی اعتبار سے اہم تھی۔ اس کا ایک مقصد یہ تھا کہ دنیا کے علمی نقشے پر پاکستان کو نمایاں حیثیت ملے۔ اس حکمت عملی کا دوسرا پہلو اس سے بھی بڑھ کر اہم تھا۔ یعنی نقالی سے جان چھڑا کر حقیقی سائنسی ترقی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملک کی معیشت فروغ پا سکے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ پالیسی اصولی طور پر درست تھی۔ اس کے مقاصد پر بھی کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کے تکنیکی اور عملی پہلوؤں میں کچھ ایسے خلا رہ گئے جن کے مضر اثرات جلد ہی سامنے آنے شروع ہو گئے۔ ان میں سے ایک تحقیقی مقالوں کی تعداد میں اضافے کی غیر صحت مندانہ دوڑ ہے جس کی وجہ سے دنیا کے علمی منظر نامے پاکستان کے نام پر حرف آیا ہے۔‘

تحقیق کی رفتار میں اتنی تیزی کیا معنی رکھتی ہے؟ جرمن نژاد برطانوی پروفیسر امریطس ڈاکٹر اٹا فریتھ علم نفسیات کی بین الاقوامی شہرت یافتہ استاد ہیں جنھوں نے اپنے طویل علمی کریئر میں تین سو سے کچھ زائد مقالے لکھے جنھیں جدید نفیسات میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ انھوں نے تحقیقی تیز رفتاری کو تحقیقی سرگرمیوں کے منافی قرار دیتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ محققین کو پابند کیا جائے کہ وہ سال بھر میں صرف ایک ہی مقالہ لکھیں تاکہ مقدار پر معیار غالب آ سکے۔

پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے محققین کے اتنی بڑی تعداد میں مقالات کے مسترد ہونے کی بنیادی وجہ کیا ہو سکتی ہے، انٹیلیکچوئل پراپرٹی قوانین کے ایک ممتاز ماہر پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمٰن نے میرے اس سوال پر کہا کہ اس چیز کا تعلق علمی جرم کی تعریف کے تعین سے ہے۔

اُن کے مطابق پالیسی بنانے والوں کے ذہن میں ممکن ہے کہ یہ رہا ہو کہ علمی سرقہ (چوری) ہی جرم ہوتی ہے لیکن علمی دنیا میں اس کی بہت سی صورتیں ہیں۔ ’یہ الگ بات ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے قواعد و ضوابط ان کا احاطہ نہیں کرتے۔‘

ڈاکٹر عزیز قوانین کے جس خلا کا ذکر کرتے ہیں، اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جن کی وجہ سے تحقیقی مقالات واپس ہوتے ہیں۔

ری ٹریکشن واچ ڈاٹ اورگ اور ری ٹریکشن ڈیٹا بیس ڈاٹ اورگ نامی ادارے علمی دنیا کی سول سوسائٹی کا کردار ادا کرتے ہیں۔

Retraction Watch
ریٹریکشن واچ ڈیٹا بیس کا پہلا صفحہ جس میں پاکستانی مصنفین کے مسترد شدہ مقالوں کی تفصیل اور مسترد ہونے کی وجوہات بتائی گئی ہیں

کسی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والے کسی مقالے کے بارے میں اگر کوئی شکایت سامنے آتی ہے تو متعلقہ علوم کے ماہرین اس کی شکایت ان اداروں کو کرتے ہیں۔ یہ ادارے ان شکایات کا جائزہ لے کر متعلقہ جرنلز کو ان سے آگاہ کرتے ہیں۔

پھر ان جریدوں کے مدیران شکایات کا جائزہ لے کر متعلقہ مقالہ جات کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں کہ انھیں اصلاح کے لیے ان کے مصنف یا مصنفین کو واپس بھیجنا ہے یا اسے مکمل طور پر مسترد کر کے اس کا اعلان کرنا ہے۔

ری ٹریکشن ڈیٹا بیس نے ان فیصلوں کی بنیاد پر ایک ڈیٹا بیس مرتب کیا ہے۔ حال ہی میں جن پاکستانی مقالہ جات کو مسترد کرنے کی جو خبریں سامنے آئی ہیں، وہ اسی ڈیٹا بیس سے لی گئی ہیں۔

ڈیٹا بیس کے مطابق چھ دسمبر 2021 تک دنیا کے مختلف جرنلز میں شائع ہونے والے پاکستانی مصنفین کے ایسے مقالے جنھیں مختلف وجوہات کی وجہ سے واپس لیا گیا، ان کی تعداد 254 ہو چکی ہے۔ وہ کس قسم کی وجوہات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے مشکوک قرار پانے کے بعد کسی مقالے کو منسوخ کیا جاتا ہے یا اسے واپس لے لیا جاتا ہے، اس کا اندازہ ری ٹریکشن ڈیٹا بیس کی رپورٹ کے پہلے صفحے کے مطالعہ سے ہی ہو جاتا ہے۔

یکم دسمبر 2021 کو اس رپورٹ میں سب سے اوپر موجود مقالے کو جسے پاکستان سمیت پانچ ملکوں کے مصنفین نے مل کر لکھا، بعض سوالات کے جواب نہ دینے پر عارضی طور پر منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی تھی جس پر مصفین نے اسے واپس لے لیا۔

یہ مقالہ تحقیقی جریدے شائع کرنے والے ممتاز اشاعتی ادارے ایلزیویئر کے معروف جنرل ای بائیو میڈیسن میں شائع ہوا تھا۔ فہرست میں اس کے بعد جگہ پانے والے مقالے جسے پاکستان کے چھ مصنفین نے مشترکہ طور پر لکھا تھا، ڈیٹا چوری کرنے کی بنا پر منسوخ کر دیا گیا۔ یہ مقالہ ممتاز اشاعتی ادارے وائلی کے جریدیے انٹرنیشنل جرنل آف کلینیکل میڈیسن میں شائع ہوا۔

تیسرا مقالہ بھی پاکستان سے تعلق رکھنے والے چھ مصنفین نے مشترکہ طور پر لکھا۔ اس مقالے کے اعداد و شمار اور نتائج غلط پائے گئے جس بنا پر اسے بھی مسترد کر دیا گیا۔ یہ مقالہ بھی وائلی کے اسی جریدے میں شائع ہوا۔ (رپورٹ کے ابتدائی مندرجات کا عکس اس رپورٹ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے جس سے دیگر مقالہ جات پر اعتراضات، ان کے بارے میں کیے گئے فیصلے اور جریدوں کی تفصیلات سامنے آتی ہیں۔)

کیا کم و بیش ڈھائی سو مقالوں کا مسترد ہو جانا بڑا واقعہ ہے؟

اس سوال کا جواب دیگر ملکوں کے مسترد شدہ مقالوں کی تعداد سے کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں اگر اس عرصے کے دوران میں 254 مقالات مسترد ہوئے تو اسی عرصے میں انڈیا کے 980 مقالات مسترد ہوئے۔

ایچ ای سی اور بعض دیگر متعلقہ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے مسترد شدہ مقالوں کا تناسب کم و بیش ایک جیسا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں اگر پاکستان اور دنیا کے دیگر ملکوں کے درمیان مسترد شدہ مقالوں کا تناسب برقرار رہے تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

اعداد و شمار کسی صورت حال کی یقیناً ایک تصویر پیش کرتے ہیں لیکن علمی معاملات میں ڈیٹا کی درستگی اور تحقیق کا معیار سب سے بڑھ کر اہمیت رکھتے ہیں۔

سنجیدہ علمی حلقے اس سلسلے میں کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے میں چند بنیادی اصولوں پر توجہ دی جائے اور مقالہ نگار بعض طے شدہ اصولوں یا ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں تو اس کے نتیجے میں اس تناسب میں مزید کمی لائی جا سکتی ہے۔ البتہ اس سلسلے میں متوازی آرا بھی پائی جاتی ہیں۔ پاکستان کا موجودہ علمی اور تحقیقی منظرنامہ اسے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

پاکستان میں تحقیق کی رفتار میں اضافہ کیسے ہوا، اس کی تفصیل بڑی دلچسپ ہے۔ پاکستان کے علمی حلقوں میں ان دنوں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد شعبہ ریاضی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات کی مثال پیش کی جاتی ہے جن کے مسترد کیے جانے والے مقالوں کی تعداد 19 ہے۔

یہ تعداد اگرچہ اپنی جگہ توجہ طلب ہے لیکن تحقیقی مقالوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ان کے کریڈٹ پر ہے۔ ڈاکٹر تصور کی پروفائل کے مطابق ڈھائی ہزار سے زائد اشاعتیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔

تاشقند انسٹیٹیوٹ آف اوریئنٹل سٹڈیز کی پروفیسر گلنار نادروا نے لکھا ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات دنیا کے زود نویس ترین محقق کے طور پر سامنے آئے ہیں جنھوں نے تین برس کے عرصے کے دوران میں 996 مقالے لکھے۔ مقالوں کی یہ تعداد سامنے رکھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انھوں نے اس عرصے میں روزانہ ایک مقالہ لکھا جو ناقابل یقین ہے۔

آئی ٹی یونیورسٹی لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عمر سیف نے اس صورت حال پر ٹائمز ہائیر ایجوکیشن کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ براہ کرم اب بس کریں۔

یہ صرف کسی ایک محقق کا معاملہ نہیں ہے جس کے نام پر اتنی بڑی تعداد میں مقالے شائع ہو چکے ہوں۔ علمی دنیا میں اس کی کئی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ علمی تحقیق میں یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے کہ کسی ایک موضوع پر ایک سے زیادہ مصنفین کام کریں۔ فزیکل سائنس میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایک بڑے منصوبے پر ایک سے زیادہ لوگوں نے کام کیا۔

مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے بعض محققین نے اس روایت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا دلچسپ راستہ نکالا۔

معروف محقق اور قائد اعظم یونیورسٹی کے سابق استاد ڈاکٹر اے ایچ نیّر کے مطابق ایسے لوگ پانچ، سات یا اس سے زیادہ لوگوں کا ایک گروپ بنا لیتے ہیں۔ اس گروپ میں اگر ایک مصنف بھی کوئی تحقیقی کام کرتا ہے تو وہ اس میں اپنے تمام گروپ کا نام شامل کر دیتا ہے۔ اس طریقہ کار کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں اگر ایک ایک فرد نے حقیقتاً ایک یا دو مقالے لکھ رکھے تھے تو اس طریقے کے مطابق ہر ایک کے بیس، بیس یا اس سے بھی زائد مقالے ہو گئے۔

قائد اعظم یونیورسٹی

مقالوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اس تعداد کی وجہ سے ان کے مصنفین کو ترقیاں بھی ملیں، مالی فوائد بھی حاصل ہوئے یہاں تک کہ پاکستان میں بعض مصنفین کو ایک سے زیادہ سول ایوارڈ بھی مل گئے۔

ڈاکٹر نیّر اس مسئلے کے ایک اور پہلو کی طرف بھی توجہ مبذول کرواتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ریاضی کا کوئی استاد بائیولوجی، مائیکرو بائیولوجی اور فزکس یا کیمسٹری جیسے موضوعات پر بھی تحقیقی مقالے لکھنے لگے جو اس کا سبجیکٹ نہیں ہے؟ وہ اس صورت حال کو ’سنڈیکیٹڈ‘ یعنی گروہ بندی کے ذریعے مقالہ نگاری کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔

ان کے خیال میں یہ طریقہ کار تحقیق یا مقالہ نگاری کی غیر صحت مندانہ دوڑ کا باعث بن رہا ہے جس سے غلط روایات پروان چڑھیں اور اب اس کے مضر اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔

ڈاکٹر عزیز الرحمٰن ڈاکٹر نیّر کے اٹھائے ہوئے سوالات کی تائید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’یہ طرز عمل علمی سرقے کی ذیل میں تو نہیں آتا لیکن یہ علمی کج روی ضرور ہے کیونکہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کوئی ایک یا محققین کا کوئی گروہ ایک ایسی علمی صورت حال پیدا کر دیتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’پاکستان کی علمی دنیا میں وجود میں آنے والے ایسے انٹرسٹ گروپوں کی ان غیر ذمہ دارانہ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کی روک تھام کا کوئی طریقہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔‘

یہ بھی پڑھئے:

انیس دسمبر: آج نامور محقق اور مزاح نگار مشفق خواجہ کی سالگرہ ہے

ملازمین بحالی کیس: سپریم کورٹ کے پاس ایسا کیا ہے جو پارلیمنٹ کے پاس نہیں؟

سولہ ہزار برطرف ملازمین کی بحالی، سپریم کورٹ فیصلے کا منفرد پہلو

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد علی چند محققین کے اشتراک سے تحقیقی کام کے طریقہ کار کو درست قرار دیتے ہیں۔ ایک سوال پر انھوں نے بتایا کہ ’دنیا کے مختلف حصوں میں کام کرنے والے سائنس دانوں کا باہمی رابطہ ہوتا ہے اور وہ اشتراک کار کے ذریعے ایسے مقالے لکھتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ایسے کئی مقالوں کے مصنف ہیں جن کے لیے ’ایک سے زیادہ مصنفین نے اپنے اپنے حصے کا کام کیا۔‘

کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی محقق کسی ایسے موضوع پر لکھے جانے مقالوں کا بھی شریک مصنف بن جائے جس کا اپنا سبجیکٹ کوئی دوسرا ہو؟

ڈاکٹر محمد علی اس سوال کا جواب بھی اثبات میں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ عین ممکن ہے کیونکہ مختلف علوم و فنون کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہوتا ہے اور کسی ایک سبجیکٹ کی تحقیق کو کسی دوسرے سبجیکٹ کی تحقیق فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ایک سے زائد مصنفین ناگزیر ہو جاتے ہیں۔‘

کینیڈین جرنل آف گیسٹروانٹرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی میں ایک محقق ایلڈن شیفر اس معاملے کا تفصیل سے جائزہ لے کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس دور میں پیچیدگی اختیار کرتی ہوئی (بائیو میڈیکل) سائنس کی وجہ سے اجتماعی تحقیق ناگزیر ہو چکی ہے۔

تحقیق

بہت سے دیگر محققین اجتماعی تحقیق کی ضرورت کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کے بعض نقصانات کی طرف بھی توجہ مبذول کرواتے ہیں۔ انڈین جرنل آف فارماکولوجی میں چتنا ڈیسائی نے اپنے مقالے میں اس رجحان کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ اس کی وجہ سے مصنفین کی مختلف قسمیں وجود میں آ گئی ہیں جن میں اعزازی، گھوسٹ اور مہمان مصنفین کے علاوہ تحفے کے طور پر بننے والے مصنفین بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق اس قسم کی آتھرشپ بدعنوانی کی واضح مثال ہے اور اس کے نتیجے میں عام طور پر جونیئر محققین سینیئرز کی طرف سے استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔

پاکستان میں اس قسم کی تحقیق کے بارے میں سب پہلے آواز اٹھانے والے ڈاکٹر عیسیٰ داؤد پوتہ اور قائد اعظم یونیورسٹی ہی کے ایک ریٹائرڈ استاد ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان دنوں یہ رجحان عام ہے۔

اجتماعی تحقیق کے کیا قواعد و ضوابط ہیں۔ محقق چتنا ڈیسائی نے اس مسئلے پر بھی اظہار خیال کیا ہے اور بتایا ہے کہ نصف سے زائد مصنفین عام طور پر قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 60 فیصد اجتماعی مصنفین ان قواعد و ضوابط سے واقف ہی نہیں ہوتے جو اجتماعی تحقیق کے لیے ضروری ہیں۔

پاکستان میں اجتماعی تحقیق اور ایک سے زیادہ مصنفین کی پبلیکیشنز کا تصور نیا نہیں ہے لیکن حال ہی میں مقالوں کے مسترد ہونے کے ساتھ ہی اس کے بعض دیگر پہلو بھی اجاگر ہوئے ہیں جن کے بارے میں تشویش محسوس کی جاتی ہے۔

پاکستانی مصنفین کے مسترد ہونے والے مقالوں کی تعداد تادم تحریر 254 ہے۔ ان میں سے 28 مصنفین کا تعلق قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ہے۔ ان 28 مصنفوں میں ایک مصنف ایسے ہیں جن کے مسترد ہونے والے مقالوں کی تعداد 19 ہے۔ مسترد ہونے والے ان مقالوں میں مواد کی چوری کے علاوہ تجزیے اور نتائج اخذ کرنے میں غلطیوں سمیت کئی دیگر کوتاہیوں کی نشان دہی ہوئی ہے۔

ان غلطیوں میں ایک دلچسپ غلطی یہ بھی ہے کہ ایک مقالہ جس جریدے میں شائع ہوا، اس جریدے نے وہی مقالہ اس کے چار مصنفوں میں سے ایک مصنف (جن کی شہریت ایرانی ہے۔ مقالے کے مصنفین میں پاکستان سمیت کئی ممالک کے شہری شامل تھے) کو تنقیدی جائزے کے لیے ارسال کر دیا۔

جریدے کی طرف سے یہ غلطی بھی ہو سکتی تھی اور دو طرفہ منصوبہ بندی بھی۔ غلطی کی صورت میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ متعلقہ مصنف جریدے کو غلطی کی نشان دہی کر کے مقالہ جریدے کو واپس ارسال کر دیتے۔ مگر قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے مطابق شریک مصنف نے ایسا نہیں کیا۔

کیا یہ ایسا جرم ہے کہ اس کے مرتکب افراد کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے؟

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے میں نے یہ سوال اس اضافے کے ساتھ کیا کہ قواعد کے مطابق متعلقہ جامعہ کے سربراہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیق میں خلاف ضابطہ سرگرمیوں میں ملوث شخص کے خلاف کارروائی کریں۔

ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ ’اس معاملے میں ایک تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا تعلق پورے ملک سے ہے۔ اس لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ صرف قائد اعظم یونیورسٹی اور اس کے ایک پروفیسر کی ذات کو ہدف بنایا جائے۔ پھر اس سلسلے میں میری تجویز بھی یہ ہے کہ ایک قومی کمیٹی بنائی جائے جو اس مسئلے کا جائزہ لے کر صورت حال کا کوئی حل نکالے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایچ ای سی کو بالآخر اس میں دخل دینا پڑے گا۔‘

تحقیق

اس تمہید کے بعد انھوں نے ایک مصنف کے ہاتھوں خود ہی اپنے مقالے کا تنقیدی جائزہ لے کر اسے اشاعت کے موزوں قرار دینے کے واقعے کے بارے میں کہا کہ ’یہ کوتاہی ایک غیر ملکی سے ہوئی ہے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کوتاہی میں پاکستانی محقق بھی شریک رہے ہوں گے۔ اس غلطی کا تعین تو تحقیقات کے ذریعے ہی ممکن ہے کہ اس غیر ملکی کی غلطی یا جرم میں متعلقہ پاکستانی محقق شریک ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد ہی انھیں سزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ جب ایسا موقع آیا تو قائد اعظم یونیورسٹی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرے گی۔‘

ڈاکٹر محمد علی نے اس تنازعے میں ایچ ای سی کا کردار اجاگر کیا ہے۔ اس کردار کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے؟

یہ جاننے کے لیے اس ادارے سے رابطہ کیا گیا تو ایچ ای سی ذرائع نے کو بتایا کہ جہاں تک کسی پروفیسر کی طرف سے تحقیق میں غلط کاری (مس کنڈکٹ) کا تعلق ہے تو قواعد اس سلسلے میں واضح ہیں، متعلقہ تعلیمی ادارے کو ہی اس سلسلے میں تادیبی کارروائی کرنی ہے۔

ایچ ای سی کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ان معاملات کے سامنے آنے کے بعد ایچ ای سی نے ایک اخلاقی جائزہ کمیٹی کے نام سے خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے جو ان معاملات کا جائزہ لے کر اقدامات تجویز کرے گی۔

پاکستان میں ان معاملات کے بارے میں کیا پیش رفت ہوگی، آنے والے دنوں میں صورت حال واضح ہونے کا امکان ہے۔ البتہ ڈاکٹر عزیزاور ڈاکٹر عابد کے مطابق شریک مصنف کی طرف سے ضابطے کی خلاف ورزی یا کسی کوتاہی کے بارے میں ایچ ای سی کے قوانین خاموش ہیں تاہم دنیا کے دیگر حصوں میں یہ معاملات ایک عرصے سے زیر غور ہیں اور ماہرین نے اجتماعی تحقیق کے نقصانات اجاگر کیے ہیں۔

ایلڈن شیفر ان محققین میں بہت نمایاں ہیں جو اجتماعی تحقیق اور شریک مصنفین کے تصور کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس کے لیے سخت شرائط بھی عائد کرتے ہیں۔ اپنے معروف مقالے ‘ٹو مینی آتھرز سپائل دا کریڈٹ’ میں اس سلسلے میں انھوں نے پانچ شرائط کا ذکر کیا ہے:

1: تحقیق کے موضوع کے انتخاب اور تحقیق کے طریقہ کار (میتھاڈولوجی) کی تیاری میں بامعنی حصہ

2: مواد کے تجزیے اور اس کی توضیح (وضاحت) میں بامعنی شراکت

3: مقالے کی تحریر اور اشاعت کے لیے دینے تک اس کی نظرثانی میں بامعنی حصہ

4: مقالے کے کسی بھی حصے میں پیدا ہونے والے کسی بھی قسم کے مسئلے کے بارے میں تحقیق و تفتیش اور اس کے حل کی سرگرمی میں باقاعدہ شرکت

5: مقالے میں شائع ہونے والے تمام مواد کے بارے میں کسی بھی قسم کی جواب دہی میں شراکت۔

علمی سرقے اور متعلقہ امور کے بارے میں آواز اٹھانے والے ڈاکٹر عزیز الرحمٰن اس سلسلے میں توقع ظاہر کرتے ہیں کہ بین الاقوامی ضابطہ اخلاق، قوانین اور روایات اعلیٰ تعلیم کے اداروں اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے ذمہ داران کے یقیناً علم میں ہوں گی اور وہ اس معاملے سے نمٹنتے وقت یقیناً ان کا خیال رکھیں گے۔

غیر معیاری تحقیق اور مقالہ جات کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کا ایک سبب اور بھی ہے۔ اس کا تعلق پاکستان اور بیرون پاکستان ایسے جریدوں سے ہے جنھیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے ایک نظام ہائیر ایجوکیشن کمیشن جرنلز ریکوگنیشن سسٹم (اختصار سے جسے ایچ جے آر ایس) کہا جاتا ہے کے تحت ایسے جریدوں کی فہرست میں شامل کر لیا جن میں مقالہ جات کی اشاعت اس کے معیار کے مطابق ہو۔

تحقیق

اس فہرست میں پاکستان کی جامعات، انسٹیٹیوٹس اور تحقیقی اداروں یا تھنک ٹینکس کے جریدے آتے ہیں۔ یہ جریدے چوں کہ مستند اداروں کے زیر اہتمام شائع ہوتے ہیں، اس لیے ان کے معیار اور اس کے ذمہ داروں کی شناخت ممکن ہے لیکن اسی فہرست میں کچھ ایسے جریدوں کے نام بھی شامل ہیں جو جامعات یا کسی تحقیقی ادارے کے بجائے ایسے ادارے شائع کرتے ہیں جن کا تعلیم و تحقیق سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسے جرنلز جو علمی دنیا میں شکاری (Predatory) جریدوں کے نام سے شہرت رکھتے ہیں، ایج ای سی کی فہرست میں شامل کیسے ہو گئے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا کوئی تسلی بخش جواب ابھی تک سامنے نہیں آسکا۔ البتہ اس سلسلے میں شکایات سامنے آنے کے بعد ایچ ای سی میں بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے ہیں۔ ادارے کے اعلیٰ حکام اس سلسلے میں توقع ظاہر کرتے ہیں کہ ان اقدامات کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔

شکاری جریدے کس قسم کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، اس کا ذکر ایک ممتاز عالمی جریدے نیچر نے اپنی 2019 کی اشاعت میں کیا ہے: ‘شکاری جریدے اور ان کے ناشر علم کی قیمت پر ذاتی مفادات کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہ جریدے بہترین ادارتی اور اشاعتی روایات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، شفافیت سے گریز کرتے ہوئے بدعنوانی کے مرتکب ہو کر جعلی اور گمراہ کن معلومات کو فروغ دیتے ہیں۔‘

نیچر نے اپنے ایک اور جائزے میں انکشاف کیا ہے کہ عالمی علمی ڈیٹا بیس میں کم از کم تین سو ایسے جریدے شائع ہو رہے ہیں جن میں شائع ہونے والے مقالوں کی سالانہ تعداد ایک لاکھ ساٹھ ہزار تک پہنچتی ہے۔

The PalArch's Journal of Archaeology of Egypt/ Egyptology'

اسی قسم کی شہرت رکھنے والے جرنلز میں سے ایک نام ‘The PalArch’s Journal of Archaeology of Egypt/Egyptology’ ہے۔ اس جرنل نے یکم جنوری 2021 سے نومبر 2021 تک اپنے 17 شمارے شائع کیے جن میں 2259 مقالے شائع کیے گئے۔

اس جرنل میں پاکستانی مصنفین کے مقالے بھی بڑی تعداد میں شائع ہوئے ہیں۔ تحقیق چونکہ ایک سست رفتار علمی سرگرمی ہوتی ہے، اس لیے دنیا بھر کے علمی جریدے عام طور پر سال میں چار شمارے مشکل سے ہی شائع کر پاتے ہیں۔ بعض جریدے ایسا کرنے میں ناکام رہنے کی صورت میں اپنی اشاعتوں کی تعداد نصف یا اس سے بھی آدھی کر دیتے ہیں۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ پال آرچ نامی جریدہ سال مکمل ہونے سے بھی ایک ماہ پہلے تک 17 شمارے شائع کرنے میں کامیاب رہا۔

علمی دنیا میں یہ روایت بھی بڑی پختہ ہے کہ جو جرنل جس شعبے کے لیے مخصوص ہوتا ہے، صرف اسی سے متعلق مقالے شائع کرتا ہے لیکن پال آرچ کی ویب سائٹ پر موجود اس کی حالیہ 17 اشاعتوں میں آثارِ قدیمہ، علمِ مصریات اور سائنس کے متعلقہ موضوعات کے علاوہ طب، ادب، قانون اور لسانیات سمیت کئی دیگر موضوعات پر مقالے ملتے ہیں جو خلاف ضابطہ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہو گیا، نیچر کے تبصرے سے واضح ہے۔

اس جریدے نے جنوری 2021 سے نومبر 2021 تک شائع ہونے والے شماروں میں 31 ہزار 643 صفحات پر مشتمل دو ہزار 259 تحقیقی مقالے شائع کیے۔

تحقیقی جرنلز کے کام اور طریقہ کار سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں صفحات اور مقالوں کی اشاعت ایک عالمی ریکارڈ ہی نہیں بلکہ حیرت انگیز بھی ہے کیونکہ کوئی تحقیقی جرنل اس رفتار سے شائع ہو سکتا ہے اور نہ اسے اتنی بڑی تعداد میں معیاری مقالے دستیاب آ سکتے ہیں۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق سے دلچسپی رکھنے والے ایک سابق وفاقی وزیر اس قسم کی سرگرمیوں کو درست قرار نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی کو ایسے جریدوں کی ایکریڈیٹیشن فی الفور ختم کر دینی چاہیے۔ دلچسپ امر یہ ہے ایچ ای سی میں یہ جریدہ دو کیٹیگریز میں رجسٹرڈ ہے۔

اس جرنل کے ایڈیٹوریل بورڈ میں دانش اقبال نامی ایک پاکستانی بھی شامل ہیں۔ ہم نے اس سلسلے میں ان سے کئی بار رابطہ کیا لیکن یہ رپورٹ فائل ہونے تک اُن کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

پال آرچ جیسے جرنلز کی ایک بڑی تعداد پاکستان سے بھی شائع ہوتی ہے۔ ڈاکٹر داؤد پوتہ نے بتایا کہ کئی ایسے پرچے ان کے علم میں آئے ہیں جو مختلف مقامات سے پراسرار طریقے سے شائع ہوتے ہیں اور مصنفین سے ان کے مقالوں کی اشاعت کے لیے پیسے طلب کرتے ہیں۔

ڈاکٹر عابد اور ڈاکٹر عزیز کی تجویز ہے کہ ایسے جریدوں کے معاملات کی تحقیق اگر تحقیقاتی اداروں کے سپرد کی جائے تو چونکا دینے والے انکشافات ہو سکتے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے منظور شدہ جریدوں کی فہرست میں گلوبل ریجنل ریویو اور گلوبل کے نام سے شائع ہونے والے کئی جریدوں کے نام بھی شامل ہیں۔

یہ جریدے ہیومینیٹی اونلی نامی ایک این جی او کے زیر اہتمام شائع ہوتے ہیں۔ یہ این جی او نہ تو کوئی تھنک ٹینک ہے، نہ کوئی تحقیقی ادارہ یا یونیورسٹی لیکن اس کے باوجود یہ ادارہ تقریباً 20 کی تعداد میں جریدے شائع کرتا ہے جن میں سے بیشتر ایچ ای سی کے منظور شدہ جریدوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

مشکوک جریدے ایچ ای سی کے منظور شدہ جرنلز کی فہرست میں کیسے؟

ذرائع نے بتایا کہ چند برس پہلے جب ایچ ای سی نے تحقیقی جریدوں کی ایکریڈیٹیشن کے لیے ایچ ای سی جرنل ریکوگنیشن سسٹم (ایچ جے آر ایس) قائم کیا گیا تو اس سسٹم میں ایک معیار کے تحت ایکریڈیٹیشن کے خواہش مند جریدوں کی منظوری دی گئی۔

ذرائع کے مطابق یہ مقامی ایکریڈیٹیشن سسٹم تھا جس میں بعض عناصر ناجائز ذرائع استعمال کر کے فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس بدعنوانی کے سامنے آنے کے بعد ایچ ای سی نے بعض اہم تبادلے کرنے کے علاوہ چند کمیٹیاں بھی قائم کر دی ہیں۔ ان کمیٹیوں میں ریسرچ جرنلز کی جائزہ کمیٹی اور کوالٹی کمیٹی آف ریسرچ جرنلز شامل ہیں۔

یہ کمیٹیاں موجودہ صورت حال کی اصلاح کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہیں۔ ان میں ایک تجویز یہ ہے کہ تحقیقی جریدوں کی ایکریڈیٹیشن کے لیے پہلے سے موجود بین الاقوامی معیار اختیار کیا جائے جب کہ بعض ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اسی نظام کی اصلاحات کر کے اسے بدعنوانی سے پاک کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔

عرفان صدیقی
سینیٹرعرفان صدیقی نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی نے اس سلسلے میں ایک سب کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی متعلقہ جرنلوں کے ریکارڈ کا جائزہ لے کر کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرے گی

سینیٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم سرکاری شعبے میں کام کرنے والی پانچ بڑی جامعات کے ریسرچ جرنلز کے انداز کار میں بے ضابطگی پر تحقیقات میں مصروف ہے۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’انھیں شکایت ملی تھی کہ جامعات کے ریسرچ جرنل مقالوں کی اشاعت کے سلسلے میں طے شدہ نظام کار کی پابندی نہیں کرتے۔ کوئی ایک مقالہ جس کی اشاعت میں ضابطے کے مطابق عام طور پر پانچ سے چھ ماہ درکار ہوتے ہیں، چند دنوں میں شائع ہو جاتا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس کا سبب ترقیوں اور تقرر کے سلسلے میں درکار کسی امیدوار کی ضرورت سے ہوتا ہے۔ ’مثلاً اگر کوئی آسامی مشتہر ہوئی ہو جس کی قابلیت کا معیار 15 شائع شدہ مقالے ہوں اور کوئی امیدوار اس شرط پر پورا نہ اترتا ہو تو آئندہ دو تین ماہ کے دوران امیدوار کی یہ کمی پوری ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے میں مبینہ طور پر جامعات کے جرنل ہی بروئے کار آتے ہیں‘

سینیٹرعرفان صدیقی نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی نے اس سلسلے میں ایک ذیلی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی متعلقہ جرنلوں کے ریکارڈ کا جائزہ لے کر کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرے گی۔

عرفان صدیقی نے بتایا کہ یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے جس کا تعلق علمی دیانت اور پاکستان کے وقار سے ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ اس لیے گمبھیر ہوا کہ وزارت تعلیم نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے پہلو تہی کی۔

انھوں نے بتایا کہ کمیٹی مسئلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس کے حل کے لیے تجاویز پیش کرے گی اور کمیٹی اس سلسلے میں تعلیمی شعبے اور ذمہ دارشہریوں کی معاونت حاصل کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

یہ مقالہ https://www.bbc.com پر بھی شائع ہو چکا ہے۔

ADVERTISEMENT
ڈاکٹر فاروق عادل

ڈاکٹر فاروق عادل

فاروق عادل صحافی ہیں یا ادیب؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا، ان کی صحافت میں ادب کی چاشنی ہے اور ادب میں تحقیق کی آمیزش جس کے سبب ان کی تحریر کا ذایقہ ذرا مختلف ہو گیا ہے۔ بعض احباب اسے اسلوب قرار دیتے ہیں لیکن "صاحب اسلوب"کا خیال ہے کہ وہ ابھی تک اپنی منزل کی تلاش میں ہیں۔

Next Post

محشر خیال

تبادلہ خیال

ہمارا فیس بک پیج لائق کریں

ہمیں ٹوئیٹر ہر فالو کریں

ہمیں انسٹا گرام پر فالو کریں