ADVERTISEMENT

عزیزی اچکزئی
میں نے ایدھی صاحب سے کہا کہ اگر آپ چار سال پہلے نہ بھی مرتے تو دنیا میں آئی ہوئی تازہ وبا اب تک آپ کی جان لے چکی ہوتی –
ایدھی صاحب نے پوچھا کہ یہ بیماری لگتی کیسے ہے؟
میں نے کہا انسان سے انسان کو، اسی لئے تو شہروں میں لاک ڈاؤن ہے اور لوگ گھروں میں بند ہیں، آپ نہ تو صفائی کا خیال رکھتے نہ ہی فاصلہ کا –
یہ بھی پڑھئے:
بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کی وفات
بہترین خدمت گزار
میں نے وجہ پوچھی –
” شہروں کے ویران ہونے کے بعد میں جنگل کا رخ کرتا، پیاسے جانوروں کو پانی پلاتا، بھوکوں کو کھانا کھلاتا اور لاوارث جانوروں کو گود لے لیتا”
ایدھی صاحب نے جواب دیا –
میں نے پوچھا : مگر کیا جنگلوں میں بھی لاوارث جانور ہوتے ہیں؟ آپ کے بغیر بھی تو وہ گزر بسر کررہے ہیں آپ نہ ہوتے تو ان کا وارث کونا ہوتا؟
” چار سال ہوئے میں اس دنیا سے گزر چکاہوں، جن یتیموں اور لاوارث بچوں کا میں وارث بنتا وہ اب بھی تو پیدا ہوتے ہوں گے اور میرے بغیر ہی کسی نہ کسی طرح گزر بسر کررہے ہوں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اب انسان لاوارث نہیں ہیں، میرے بعد ان کا وارث کون ہے؟
ایدھی صاحب نے جواب دیا۔